صیاد اجل
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - موت کا فرشتہ، ملک الموت، مراد؛ موت، اجل۔ واہ صیاد اجل اور واہ صیادی کا پیچ کھچکے ہے اسفندیار آیا کہاں رستم کے پاس ( ١٨٥٤ء، دیوان ذوق، ١١٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'صیاد' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'اجل' لگانے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٧٢ء کو "دیوانِ شاہ سلطانی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر